
دلی میں جاری نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے پسِ منظر میں چند انڈین حلقے ’پاکستانی‘ اور غیرملکی فنڈنگ سے متعلق الزامات کو بارہا دہرا رہے ہیں اور اس حوالے سے ہونے والی گفتگو اب بحث کا موضوع ہے۔
ان الزامات کے بعد اب دلی پولیس نے کہا ہے کہ اُس نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا کے 480 اکاؤنٹس کی نشاندہی کر کے انھیں بلاک کر دیا ہے کیونکہ یہ اکاؤنٹس طلبا احتجاج سے متعلق ’گمراہ کن مہم‘ چلا رہے تھے۔
یاد رہے کہ دلی میں نوجوانوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کو پاکستان کے نوجوان حلقے بھی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں اور اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔
اگرچہ اب تک ان الزامات سے متعلق عوامی طور پر کوئی مصدقہ شواہد سامنے نہیں آئے ہیں لیکن دہلی پولیس نے طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایسے غیر ملکی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہوشیار رہیں جو صورتحال کے بارے میں گمراہ کن افواہیں پھیلا رہے ہیں۔‘
اسی دوران دہلی ہائی کورٹ نے ایک عوامی مفاد کی درخواست (پی آئی ایل) کو بھی فوری سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔